قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ النَّومِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَطَرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5100.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَسَرَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: >لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ<.

سنن ابو داؤد:

كتاب: سونے سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: بارش کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

5100.   سیدنا انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی۔ تو رسول اللہ ﷺ نکلے اور اپنے جسم سے کپڑا ہٹا لیا حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کے جسم پر پڑنے لگی۔ ہم نے عرض کیا: اے ﷲ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے۔“