موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْفِتْنَةِ)
حکم : صحیح
4077 . حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ، يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً، وَتَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ، وَأَمَانَاتُهُمْ، فَاخْتَلَفُوا، وَكَانُوا هَكَذَا؟» ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: كَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَأْخُذُونَ بِمَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى خَاصَّتِكُمْ، وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَوَامِّكُمْ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: قتنے اور آزمائش کے وقت حق پرجمے رہنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4077. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس زمانے میں تمہارا کیا حال ہو گا عنقریب آنے والا ہے، جس میں لوگوں کو خوب چھان لیا جائے گا۔ (اہل ایمان اور اچھے آدمی اٹھا لیے جائیں گے) اور چھان بورا باقی رہ جائے گا (بے دین اور رذیل لوگ باقی رہ جائیں گے) جن کے عہد و مواعید میں بے وفائی اور امانتوں میں خیانت ہو گی اور ان میں اس طرح سے اختلاف ہو جائے گا۔ یہ فرماتے وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری کے اندر ڈال کر دکھایا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جب یہ صورتِ حال ہو تو ہم کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: جو بات تمہیں (قرآن و سنت کی روشنی میں) صحیح معلوم ہو اسے اختیار کرو اور جو بات (قرآن و سنت کی روشنی میں) غلط معلوم ہو اسے چھوڑ دو۔ اور اپنے خاص افراد (اہل خانہ، اقارب، مخلص دوست وغیرہ) پر توجہ دو اور عام لوگوں کے معاملات سے ایک طرف ہو جاؤ۔