موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ إِتْمَامِ الصَّلَاةِ)
حکم : ضعیف جدا
1062 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيُقِيمُ صُلْبَهُ وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: نماز کی کامل ادائیگی کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1062. حضرت عمرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے سوال کیا: رسول اللہ ﷺ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ جب وضو کرتے وقت برتن میں ہاتھ ڈالتے تو اللہ کا نام لیتے (بسم اللہ پڑھتے) اور اچھی طرح کامل وضو کرتے، پھر قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے، پھر رکوع کرتے تو گٹھنوں پر ہاتھ رکھتے، اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) الگ رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنی کمر مبارک سیدھی کرلیتے اور قومے میں کھڑے رہتے، جو تمہارے قومے سے تھوڑا سا طویل ہوتا تھا۔ پھر سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ قبلے کی طرف رکھتے اور میں نے دیکھا ہے کہ جہاں تک ہو سکتا بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے، پھر سر اٹھاتے اور بائیں قدم پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پہلو پر جھکنا پسند نہیں فرماتے تھے۔