موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): موقوف ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ فِي فَرْضِ الْجُمُعَةِ)
حکم : حسن
1082 . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَدَعَا لَهُ فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي وَاللَّهِ إِنَّ ذَا لَعَجْزٌ إِنِّي أَسْمَعُهُ كُلَّمَا سَمِعَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ يَسْتَغْفِرُ لِأَبِي أُمَامَةَ وَيُصَلِّي عَلَيْهِ وَلَا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَ هُوَ فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ اسْتَغْفَرَ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتَاهُ أَرَأَيْتَكَ صَلَاتَكَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ بِالْجُمُعَةِ لِمَ هُوَ قَالَ أَيْ بُنَيَّ كَانَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَرْبَعِينَ رَجُلًا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: جمعے کی فرضیت کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1082. حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب میرے والد کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی تو میں ان کا رہبر ہوا کرتا تھا۔ میں جب بھی آپ کو جمعے کے لیے لے جاتا تو آپ (جمعے کی) اذان سن کر سیدنا ابو امامہ اسعد بن زرارہ ؓ کے حق میں دعائے مغفرت اور دعائے خیر فرماتے۔ میں کچھ عرصہ ان کی زبان سے مسلسل یہی بات سنتا رہا۔ آخر میں نے دل میں (اپنے آپ سے) کہا: یہ تو کم عقلی کی بات ہے کہ میں ان سے اس کی وجہ دریافت نہ کروں حالانکہ میں ہر جمعے کو، جب بھی وہ جمعے کی اذان سنتے ہیں انہیں سیدنا ابو امامہ ؓ کے حق میں دعائے مغفرت اور دعائے خیر کرتے سنتا ہوں۔ (آخر کار ایک بار) میں انہیں حسب معمول نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے لے کر چلا۔ جب انہیں اذان کی آواز سنائی دی تو انہوں نے اپنے معمول کے مطابق (سیدنا ابو امامہ اسعد بن زرارہ ؓ کے حق میں) دعا کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان! آپ جب بھی جمعے کی اذان سنتے ہیں سیدنا اسعد بن زرارہ ؓ کو دعائیں دیتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: پیارے بیٹے! سب سے پہلے انہوں نے ہمیں جمعے کی نماز پڑھائی تھی، جب کہ رسول اللہ ﷺ ابھی مکہ سے (ہجرت کر کے مدینہ) تشریف نہیں لائے تھے۔ انہوں نے یہ نماز حرہ بنی بیاضہ میں نقیع الخضمات کے میدان میں پڑھائی تھی۔ میں نے کہا: اس دن آپ کتنے افراد (اس نماز میں شریک) تھے؟ انہوں نے فرمایا: چالیس آدمی تھے۔