Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Talhah Bin 'Ubaidullih)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
128.
حضرت قیس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا، انہوں نے جنگِ اُحد میں اس سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا تھا۔
تشریح:
(1) جنگِ اُحد میں کافروں کے حملوں کا مرکز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ اس وقت جب کہ مسلمان منتشر ہو چکے تھے، حضرت طلحہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کی بے مثال بہادری کی وجہ سے مشرکین اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ (2) ہاتھ سے دفاع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے اپنا ہاتھ کر دیا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں۔ جس کی وجہ سے ہاتھ شل ہو گیا۔ غالبا ڈھال فوری طور پر دست یاب نہ تھی۔
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
134
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
128
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
128
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ نام و نسب اور فضائل: نام و نسب یوں ہے: طلحہ بن عبدیاللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب قریشی تیمی اور کنیت ابومحمد ہے۔ آپ کو اسلام میں متعدد فضیلتیں حاصل ہیں مثلا: آپ خوش نصیب و بلند مرتبہ عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے ایک ہیں۔ اسلام قبول کرنے میں سبقت لینے والوں میں آپ کا نمبر آٹھواں اور ابوبکر صدیق کی دعوت و تبلیغ سے اسلام لانے والوں میں پانچواں نمبر ہے۔ اسی طرح آپ حضرت عمر فاروق کی بنائی ہوئی شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ آپ کا تعلق حضرت ابوبکر صدیق کے خاندان سے ہے۔ اسلام لانے کے بعد آپ کے بڑے بھائی عثمان نے آپ کو حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ ایک ہی رسی میں جکڑ کر سخت مارا پیٹا۔ حجرت عمر اسی واقعہ کی وجہ سے ان دو ساتھیوں کو "قرینین" کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ نے سترہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا اور آپ مکہ کے ان چند شرفاء میں سے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ نبی علیہ السلام نے انہیں سخاوت کی وجہ سے فیاض کا لقب عطا فرمایا۔ غزوہ حنین میں شجاعت دکھائی تو نبی علیہ السلام نے طلحة الجود کا لقب عطا کیا۔ حضرت طلحہ کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو دوسرے کسی صحابی کو نہیں، انہوں نے شار شادیاں کیں اور ان چاروں میں وہ نبی اکرم ﷺ کے ہم زلف تھے، یعنی انہوں نے ام المونین حضرت عائشہ کی بہن ام کلثوم، ام المومنین حضرت زینب کی بہن حمنہ، ام المومنین ام حبیبہ کی بہن فارعہ اور ام المومنین ام سلمہ کی بہن رقیہ سے شادی کی۔
٭ حلیہ مبارک: آپ درمیانے قد، گندمی رنگ، شگفتہ صورت اور باریک ناک والے تھے۔ آخر دم تک چاق چوبند تھے اور بڑھاپے کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
آپ جنگ جمل میں مروان بن حکم کے تیر سے زخمی ہو کر فوت ہوئے۔ اس طرح آپ 64 برس کی عمر میں 36 ہجری کو جمعرات کے دن جمادی الآخرہ کی دس تاریخ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ حضرت طلحہ نے کل سات شادیاں کیں اور دو لونڈیاں بھی آپ کے پاس تھیں۔ ان سے کل گیارہ بیٹے اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔
حضرت قیس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا، انہوں نے جنگِ اُحد میں اس سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا تھا۔
حدیث حاشیہ:
(1) جنگِ اُحد میں کافروں کے حملوں کا مرکز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔ اس وقت جب کہ مسلمان منتشر ہو چکے تھے، حضرت طلحہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کی بے مثال بہادری کی وجہ سے مشرکین اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ (2) ہاتھ سے دفاع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے اپنا ہاتھ کر دیا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں۔ جس کی وجہ سے ہاتھ شل ہو گیا۔ غالبا ڈھال فوری طور پر دست یاب نہ تھی۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ ؓ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل (بیکار) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی تھی۔
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Qais said: “I saw the paralyzed hand of Talhah, with which he had defended the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Uhud,” (Sahih)