قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ)

حکم : منکر

ترجمۃ الباب:

1524.   حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا، وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: 84]

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

1524.   حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مدینہ میں منافقوں کا سردار(عبداللہ بن ابی) مرگیا۔ اس نے (مرنے سے پہلے) وصیت کی کہ نبی ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں اور اپنی قیمص مبارک کا کفن پہنائیں، چنانچہ نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اپنی قمیص میں اسے کفنایا اور اس کی قبر پر (اس کے حق میں دعا کرنے کے لیے) کھڑےہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾  ’’(اے نبی!) ان میں سے جو مرجائے آپ ہر گز اس کی نماز (جنازہ) نہ پڑھیں اور نہ ( کبھی) اس کی قبر پرکھڑے ہوں۔‘‘