موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ صَدَقَةِ الْغَنَمِ)
حکم : صحیح
1805 . حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ، قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ، فَوَجَدْتُ فِيهِ: «فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ» ، وَوَجَدْتُ فِيهِ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ» ، وَوَجَدْتُ فِيهِ: «لَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ، وَلَا هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل
باب: بھیڑ بکریوں کی زکاۃ
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1805. امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سالم اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے حضرت سالم ؓ نے وہ دستاویز پڑھوائی جو رسول اللہ ﷺ نے فوت ہونے سے پہلے زکاۃ کے بارے میں تحریر فرمائی تھی۔ (امام زہری فرماتے ہیں) مجھے اس دستاویز میں یہ عبارت لکھی ہوئی ملی: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری (زکاۃ) ہے۔ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو (ایک سو اکیس سے لے کر) دو سو تک دو بکریاں (واجب الادا) ہیں۔ اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو تو (دو سو ایک سے لے کر) تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہے۔ میں نے اس میں یہ (حکم) بھی پایا: الگ الگ (ریوڑوں) کو جمع نہ کیا جائے اور اکٹھے (ایک) ریوڑ کو الگ الگ نہ کیا جائے۔ اور مجھے اس میں یہ (حکم) بھی (لکھا ہوا) ملا: زکاۃ میں سانڈ وصول کیا جائے، نہ بوڑھا جانور اور نہ عیب دار جانور۔