موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ)
حکم : ضعیف
217 . حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، واقْرأوهُ وَارْقُدُوا، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ، أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: قرآن کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے والے کی فضیلت
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
217. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا: ’’قرآن سیکھو، پھر اسے پڑھو اور سو رہو۔ (رات کو نماز میں تلاوت کرو، لیکن ساری رات نماز نہ پڑھو بلکہ کچھ وقت آرام بھی کرو) کیوں کہ قرآن، اسے سیکھنے والے اور اس کے ساتھ قیام کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے چمڑے کی ایک تھیلی کستوری سے بھری ہوئی ہو اور اس کی خوشبو ہر جگہ مہکتی ہو۔ اور جس نے قرآن سیکھا، پھر سو رہا حالانکہ قرآن اس کے سینے میں ہے اس کی مثال اس طرح ہے جیسے چمڑے کی تھیلی میں کستوری ہو اور اس کا منہ (رسی وغیرہ سے کس کر) باندھ دیا گیا ہو۔‘‘