موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ مَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَرَضُوا بِالدِّيَةِ)
حکم : ضعیف
2625 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ حَدَّثَنِي أَبِي وَعَمِّي وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ جَلَسَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَهُوَ سَيِّدُ خِنْدِفٍ يَرُدُّ عَنْ دَمِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ وَقَامَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ وَكَانَ أَشْجَعِيًّا فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْبَلُونَ الدِّيَةَ فَأَبَوْا فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُ هَذَا الْقَتِيلَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ رُمِيَ أَوَّلُهَا فَنَفَرَ آخِرُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ خَمْسُونَ فِي سَفَرِنَا وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا فَقَبِلُوا الدِّيَةَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: قتل عمد کی صورت میں وارثوں کی خون بہا لینے پر رضا مندی
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2625. زیادہ بن سعد بن ضمیرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد (سعد بن ضمیرہ ؓ ) اور میرے چچا نے حدیث سنائی۔ یہ دونوں غزوہٴ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھے، ان دونوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس ؓ اٹھ کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور محلم بن جثامہ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ عیینہ بن حصن ؓ بھی حاضر خدمت ہو کر قبیلہ اشجع کے فرد عامر بن اضبط کے قصاص کا مطالبہ کرنے لگے۔ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ’’کیا تم دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہو؟‘‘ انہوں نے انکار کیا۔ قبیلہ بنو لیث کا ایک آدمی جسے مکیتل کہتے تھے، اس نے اٹھ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! اللہ کی قسم میں تو اسلام کے شروع زمانے کے اس مقتول کی مثال اس طرح سمجھتا ہوں جیسے بکریوں کا ریوڑ پانی پینے آیا، اس کو کنکر مارا گیا تو ریوڑ کا پچھلا حصہ بھاگ اٹھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں ہمارے اس سفر میں پچاس اونٹ مل جائیں گے اور پچاس واپسی پر مل جائیں گے۔‘‘ اس پر ان لوگوں نے دیت لینا منظور کر لیا۔