موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): موقوف ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ)
حکم : صحیح
28 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ فَقَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ قَالَ قُلْنَا لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ قَالَ لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ وَقَالُوا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: رسول اللہﷺسے حدیث بیان کرنے میں احتیاط کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
28. حضرت قرظہ بن کعب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ہمیں کوفہ روانہ فرمایا اور ہمیں رخصت کیا۔ (اس موقع پر) آپ ہمارے ساتھ چلتے چلتے مقام ’’صِرَار‘‘ تک پہنچ گئے، تب فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کیوں تمہارے ساتھ چل کر آیا ہوں؟ ہم نے عرض کیا: (ہمارے) اصحاب رسول ﷺ ہونے کا حق سمجھتے ہوئے اور انصار کے حق (کی ادائیگی) کے خیال سے۔ فرمایا: بلکہ میں تو اس لئے تمہارے ساتھ چل کر آیا ہوں کہ میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا۔ میں نے چاہا کہ میرے اس چلنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو۔ (تاکہ تمہیں یاد رہے کہ یہ وہ اہم نصیحت ہے جو حضرت عمر ؓ نے مدینہ سے اتنی دور ہمارے ساتھ آکر ہمیں کی تھی۔) تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینے قرآن کی وجہ سے اس طرح جوش مار رہے ہیں جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے، جب وہ تمہیں دیکھیں گے تو گردنیں اٹھا کر تمہاری طرف متوجہ ہوں گے اور کہیں گے: یہ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں۔ تو اللہ کے رسول ﷺ کی حدیثیں کم بیان کرنا، (جب تم اس پر عمل کرو گے تو) پھر میں بھی (اجر میں)تمہارا شریک ہوں گا۔