موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَمَالِيكِ)
حکم : ضعیف
3691 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى قَالَ نَعَمْ فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ قَالُوا فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل
باب: غلاموں سے حسن سلوک کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3691. حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بری مالکانہ صفات کا حال جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (مالک ہونے کے پہلو سے بھی اچھی صفات سے متصف ہونا چاہئیے۔) صحابہ ؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس امت میں غلام اور یتیم سب قوموں سے زیادہ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں (ہوں گے)، لہٰذا ان سے اسی طرح عزت کا رویہ رکھو جس طرح اپنی اولاد سے عزت کا رویہ رکھتے ہو (انہیں خواہ مخواہ ذلیل نہ کرو۔) اور انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا: دنیا میں کیا چیز ہمیں فائدہ دے سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ گھوڑا جسے تو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لئے باندھ رکھے، تیرا غلام جو تیرے کام آئے۔ اگر وہ نمازی ہو تو وہ تیرا (مسلمان) بھائی ہے (لہٰذا اس کا خیال رکھنا زیادہ ضروری ہے۔)