موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْعُزْلَةِ)
حکم : صحیح
3977 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بَعَجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَيْرُ مَعَايِشِ النَّاسِ لَهُمْ، رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً، طَارَ عَلَيْهِ إِلَيْهَا، يَبْتَغِي الْمَوْتَ أَوِ الْقَتْلَ مَظَانَّهُ، وَرَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَافِ، أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل
باب: (فتنوں کے دور میں لوگوں سے ) الگ تھلگ رہنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3977. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے بہترین زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے كی باگ پکڑے، اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر (میدانِ جنگ میں) اڑتا پھرتا ہو، جب بھی خوف زدہ کرنے والی یا پریشان کن آواز سنائی دے، وہ اس پر ادھر اُڑ جاتا ہے۔ وہ موت یا شہادت کو اس کی جگہوں میں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ یا ایک آدمی کسی چوٹی پر یا کسی وادی میں چند بکریاں لے کر رہ رہا ہے، وہ نماز قائم کرتا ہے، زکاۃ ادا کرتا ہے اور مرتے دم تک اپنے رب کی بادت کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ صرف نیکی کے معاملات میں تعلق رکھتا ہے۔