قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يُطْعَمْ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

522 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ فَقَالَ إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

تمہید کتاب  (

باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

522.   حضرت لبابہ بنت حارث ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا حسین بن علی ؓ نے نبی ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اپنا کپڑا مجھے دیجئے اور خود کوئی اور کپڑا پہن لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لڑکے کے پیشاب سے تو چھینٹے مارے جاتے ہیں اور لڑکی کے پیشاب کی وجہ سے(کپڑا) دھویا جاتا ہے۔‘‘