Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: Regarding Faith )
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
62.
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں، جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: مُرْجِئَہ اور قَدَرِیَّہ۔‘‘
تشریح:
(1) یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، تاہم ’’مُرْجِئَةُ، اور قَدَرِيَّةُ‘‘ فرقوں کا وجود ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے، اس لیے ذیل میں ان کے عقائد کا تذکرہ اور اہل سنت کے ان کے فرق و اختلاف کی تفصیل بیان کرنا مناسب معلوم ہوتی ہے۔ (مُرْجِئَةُ ‘ الارجاء) کے معنی موخر کرنا یا امید دلانا ہیں۔ (مُرْجِئَةُ) کو مُرْجِئَةُ کہنے کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں: ٭ (مُرجِئَه) عمل کو نیت اور اعتقاد سے موخر کرتے ہیں۔ ٭ ان کا یہ کہنا ہے کہ ایمان کے ساتھ معصیت کچھ مضر نہیں جیسا کہ کفر کے ساتھ اطاعت مفید نہیں۔ ٭ کبیرہ گناہ کے مرتکب شخص کے معاملے کو آخرت کے دن تک مؤخر کرنا۔ دنیا میں اس کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ ٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت میں پہلے نمبر سے چوتھے نمبر پر مؤخر کرنا۔ (2) (مُرجِئَه) کی اقسام:مُرجِئَه کے مندرجہ ذیل فرقے ہیں: *اَلْجَهْمِيَةُ الصَّالِحَية *اَلشَمَرِيَّة *اليُونُسِيَّة *اَلْيَوْنَانِيَة * اَلنَّجَّارِيَّة *الغَيْلَانِية *اَلْحَنَفِيَّة *اَلسَّبِيَّبية *المُعَاذِيَة *المُرِيْسَةَ * اَلْكَرَامِيَة. (3) مُرْجِئَه کے چند اہم عقائد یہ ہیں: ٭ ان کے نزدیک جس شخص نے کلمہ طیبہ کا اقرار کر لیا وہ ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا اگرچہ کفروشرک کی ہر غلاظت میں ملوث ہو جائے۔ ٭ ان کے نزدیک ایمان صرف قول کا نام ہے، عمل اس میں شامل نہیں، اس لیے چاند، سورج اور بت کو سجدہ کرنا کفر نہیں بلکہ صرف کفر کی علامت ہے۔ ٭ ایمان میں کمی بیشی نہیں ہوتی بلکہ ایک فاسق و فاجر شخص کا ایمان انبیاء اور فرشتوں کے ایمان کے برابر ہوتا ہے۔ ٭ یہ صفات الہی کے منکر ہیں اور قیامت کے روز دیدار الہی کے بھی منکر ہیں۔ (4) مُرْجِئَه کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کے عقائد:مُرْجِئَه اور دیگر فرقوں کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ عدل و انصاف پر مبنی ہے اور اس کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت نبوی کی صریح نصوص ہیں، اس لیے ان کے عقیدے میں کسی قسم کی کجی یا تضاد نہیں ہے بلکہ ان کا عقیدہ صاف، سیدھا اور برحق ہے۔ اہل سنت والجماعت کے چند اہم عقائد یہ ہیں: ٭ ان کے نزدیک ایمان اقرار لسانی، تصدیق قلبی اور اعمال کے مجموعے کا نام ہے۔ اعمال ایمان سے خارج نہیں۔ نیکیوں سے ایمان بڑھتا ہے اور گناہوں سے اس میں کمی آتی ہے۔ اس کی دلیل قرآن مجید کی متعدد آیات ہیں جن میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾(التوبة: 124)’’اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا ہے؟ چنانچہ جو لوگ ایمان دار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔‘‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں متعدد عناوین کے تحت اس مسئلے کو بیان کیا ہے، مثلا: (اِنَّ الْإِيْمَانَ هُوَ الْعَمَلُ،اَلصَّلَاةُ مِنَ الْإِيْمَانِ، اَلزَّكَاةُ مِنَ الْإِيْمَانِ، إتَّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيْمَانِ، زِيَادَةُ الإِيْمَانِ وَ نُقْصَانُهُ) آیات قرآنی اور صحیح احادیث کی روشنی میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ ہیں اور اطاعت سے ایمان میں اضافہ اور نافرمانی سے اس میں کمی ہوتی ہے۔ ٭ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ مومن اپنے بعض گناہوں کی بنا پر دوزخ میں جا سکتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان کی وجہ سے ایک نہ ایک دن جہنم سے نکل آئے گا، ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا۔ اس کی دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کا اقرار کیا اور اس کے دل میں جَو کے وزن کے برابر ایمان ہوا وہ جہنم سے نکل آئے گا اور جس نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کو مان لیا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوا وہ دوزخ سے نکل آئے گا، جس نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کی تصدیق کی اور اس کے دل میں ذرے کے برابر ایمان ہوا وہ بھی آگ سے نجات پا لے گا۔‘‘ (صَحِيْحُ الْبُخَارِي، اَلْإيْمَانُ، بَابُ زِيَادَةُ الْإِيْمَانِ وَ نُقْصَانُهُ، حَدِيْث:44) نیز آپ کا ارشاد گرامی ہے: (مَنْ قَالَ لَا إِلـٰه إلاَّ الله اَنْجَتْهُ يَوماً مِّنْ دَهْرِهِ أصَابَهُ قَبْلَ ذَالِكَ مَا اَصَابَهُ)’’جس شخص نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کا اقرار کیا اور اسے یہ کلمہ طیبہ جہنم سے ایک نہ ایک دن نجات دلا دے گا اگرچہ اس سے پہلے اسے کچھ عذاب ہو بھی چکا ہو۔‘‘(حلْيَةُ الأَوْلِيَاء:5؍46)‘وَشرْبُ الإِيْمَان، بَابُ فِي الْإِيْمَانِ بِاللهِ عَزَّوَجَلّ، حديث:97،96) یہ حکم اس شخص کا ہے جس نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کا اقرار کیا اور تمام واجبات و شرائط کا لحاظ رکھا اور خود کو کفر و شرک سے محفوظ رکھا۔ واللہ أعلم- ٭ اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء و صفات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس میں تشبیہ، تمثیل، تکیف یا تاویل کے بغیر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کی شان اور علو مرتبہ کے لائق ہیں۔ کسی مخلوق کی صفت کے ساتھ ان کی مشابہت لازم نہیں آتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (لَيْسَ كَمِثْلِه شَئ) ’’اس جیسی کوئی چیز نہیں۔‘‘ نیز اہل سنت والجماعت قیامت کے روز مومنوں کو دیدار الہی ہونے کے قائل ہیں، اس کی دلیل میں صحیحین کی یہ روایت پیش کی جاتی ہے: صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کا دیدار کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی مشکل پاتے ہو؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ’’کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے جبکہ اس کے سامنے کوئی بادل بھی نہ ہو؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ’’تم اسی طرح بلا مشقت و رکاوٹ اپنے رب کا دیدار کرو گے....‘‘(صَحِيْحُ الْبُخَارِي، اَلتَّوْحِيْد، بَابُ قَوْلُ الله تعاليٰ (وُجوهٌ يَّومَئِذٍ نّاضِرَةٌ ﴿٢٢﴾ إِلى رَبِّها ناظِرَةٌ) حديث:7437 وصَحِيْحُ مُسلِم، اَلإيْمَانُ، بَابُ مَعْرِفَة طَرِيقِ الرُّويَةِ، حديث:182)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں، جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: مُرْجِئَہ اور قَدَرِیَّہ۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، تاہم ’’مُرْجِئَةُ، اور قَدَرِيَّةُ‘‘ فرقوں کا وجود ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے، اس لیے ذیل میں ان کے عقائد کا تذکرہ اور اہل سنت کے ان کے فرق و اختلاف کی تفصیل بیان کرنا مناسب معلوم ہوتی ہے۔ (مُرْجِئَةُ ‘ الارجاء) کے معنی موخر کرنا یا امید دلانا ہیں۔ (مُرْجِئَةُ) کو مُرْجِئَةُ کہنے کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں: ٭ (مُرجِئَه) عمل کو نیت اور اعتقاد سے موخر کرتے ہیں۔ ٭ ان کا یہ کہنا ہے کہ ایمان کے ساتھ معصیت کچھ مضر نہیں جیسا کہ کفر کے ساتھ اطاعت مفید نہیں۔ ٭ کبیرہ گناہ کے مرتکب شخص کے معاملے کو آخرت کے دن تک مؤخر کرنا۔ دنیا میں اس کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ ٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت میں پہلے نمبر سے چوتھے نمبر پر مؤخر کرنا۔ (2) (مُرجِئَه) کی اقسام:مُرجِئَه کے مندرجہ ذیل فرقے ہیں: *اَلْجَهْمِيَةُ الصَّالِحَية *اَلشَمَرِيَّة *اليُونُسِيَّة *اَلْيَوْنَانِيَة * اَلنَّجَّارِيَّة *الغَيْلَانِية *اَلْحَنَفِيَّة *اَلسَّبِيَّبية *المُعَاذِيَة *المُرِيْسَةَ * اَلْكَرَامِيَة. (3) مُرْجِئَه کے چند اہم عقائد یہ ہیں: ٭ ان کے نزدیک جس شخص نے کلمہ طیبہ کا اقرار کر لیا وہ ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا اگرچہ کفروشرک کی ہر غلاظت میں ملوث ہو جائے۔ ٭ ان کے نزدیک ایمان صرف قول کا نام ہے، عمل اس میں شامل نہیں، اس لیے چاند، سورج اور بت کو سجدہ کرنا کفر نہیں بلکہ صرف کفر کی علامت ہے۔ ٭ ایمان میں کمی بیشی نہیں ہوتی بلکہ ایک فاسق و فاجر شخص کا ایمان انبیاء اور فرشتوں کے ایمان کے برابر ہوتا ہے۔ ٭ یہ صفات الہی کے منکر ہیں اور قیامت کے روز دیدار الہی کے بھی منکر ہیں۔ (4) مُرْجِئَه کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کے عقائد:مُرْجِئَه اور دیگر فرقوں کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ عدل و انصاف پر مبنی ہے اور اس کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت نبوی کی صریح نصوص ہیں، اس لیے ان کے عقیدے میں کسی قسم کی کجی یا تضاد نہیں ہے بلکہ ان کا عقیدہ صاف، سیدھا اور برحق ہے۔ اہل سنت والجماعت کے چند اہم عقائد یہ ہیں: ٭ ان کے نزدیک ایمان اقرار لسانی، تصدیق قلبی اور اعمال کے مجموعے کا نام ہے۔ اعمال ایمان سے خارج نہیں۔ نیکیوں سے ایمان بڑھتا ہے اور گناہوں سے اس میں کمی آتی ہے۔ اس کی دلیل قرآن مجید کی متعدد آیات ہیں جن میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾(التوبة: 124)’’اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا ہے؟ چنانچہ جو لوگ ایمان دار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔‘‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں متعدد عناوین کے تحت اس مسئلے کو بیان کیا ہے، مثلا: (اِنَّ الْإِيْمَانَ هُوَ الْعَمَلُ،اَلصَّلَاةُ مِنَ الْإِيْمَانِ، اَلزَّكَاةُ مِنَ الْإِيْمَانِ، إتَّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيْمَانِ، زِيَادَةُ الإِيْمَانِ وَ نُقْصَانُهُ) آیات قرآنی اور صحیح احادیث کی روشنی میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ ہیں اور اطاعت سے ایمان میں اضافہ اور نافرمانی سے اس میں کمی ہوتی ہے۔ ٭ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ مومن اپنے بعض گناہوں کی بنا پر دوزخ میں جا سکتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان کی وجہ سے ایک نہ ایک دن جہنم سے نکل آئے گا، ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا۔ اس کی دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کا اقرار کیا اور اس کے دل میں جَو کے وزن کے برابر ایمان ہوا وہ جہنم سے نکل آئے گا اور جس نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کو مان لیا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہوا وہ دوزخ سے نکل آئے گا، جس نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کی تصدیق کی اور اس کے دل میں ذرے کے برابر ایمان ہوا وہ بھی آگ سے نجات پا لے گا۔‘‘ (صَحِيْحُ الْبُخَارِي، اَلْإيْمَانُ، بَابُ زِيَادَةُ الْإِيْمَانِ وَ نُقْصَانُهُ، حَدِيْث:44) نیز آپ کا ارشاد گرامی ہے: (مَنْ قَالَ لَا إِلـٰه إلاَّ الله اَنْجَتْهُ يَوماً مِّنْ دَهْرِهِ أصَابَهُ قَبْلَ ذَالِكَ مَا اَصَابَهُ)’’جس شخص نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کا اقرار کیا اور اسے یہ کلمہ طیبہ جہنم سے ایک نہ ایک دن نجات دلا دے گا اگرچہ اس سے پہلے اسے کچھ عذاب ہو بھی چکا ہو۔‘‘(حلْيَةُ الأَوْلِيَاء:5؍46)‘وَشرْبُ الإِيْمَان، بَابُ فِي الْإِيْمَانِ بِاللهِ عَزَّوَجَلّ، حديث:97،96) یہ حکم اس شخص کا ہے جس نے لَا إِلـٰه إلاَّ الله کا اقرار کیا اور تمام واجبات و شرائط کا لحاظ رکھا اور خود کو کفر و شرک سے محفوظ رکھا۔ واللہ أعلم- ٭ اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء و صفات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس میں تشبیہ، تمثیل، تکیف یا تاویل کے بغیر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کی شان اور علو مرتبہ کے لائق ہیں۔ کسی مخلوق کی صفت کے ساتھ ان کی مشابہت لازم نہیں آتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (لَيْسَ كَمِثْلِه شَئ) ’’اس جیسی کوئی چیز نہیں۔‘‘ نیز اہل سنت والجماعت قیامت کے روز مومنوں کو دیدار الہی ہونے کے قائل ہیں، اس کی دلیل میں صحیحین کی یہ روایت پیش کی جاتی ہے: صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کا دیدار کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی مشکل پاتے ہو؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ’’کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے جبکہ اس کے سامنے کوئی بادل بھی نہ ہو؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ’’تم اسی طرح بلا مشقت و رکاوٹ اپنے رب کا دیدار کرو گے....‘‘(صَحِيْحُ الْبُخَارِي، اَلتَّوْحِيْد، بَابُ قَوْلُ الله تعاليٰ (وُجوهٌ يَّومَئِذٍ نّاضِرَةٌ ﴿٢٢﴾ إِلى رَبِّها ناظِرَةٌ) حديث:7437 وصَحِيْحُ مُسلِم، اَلإيْمَانُ، بَابُ مَعْرِفَة طَرِيقِ الرُّويَةِ، حديث:182)
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس امت کے دو گروہ ایسے ہوں گے کہ اسلام میں ان کا کوئی حصہ نہیں: ایک مرجیہ ۱؎ اور دوسرا قدریہ (منکرین قدر)“ ۲؎ ۔
حدیث حاشیہ:
۱؎: مرجئہ ارجاء سے ہے، جس کے معنی تاخیر کے ہیں، یہ ایک گمراہ فرقہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی معصیت (گناہ) نقصان دہ نہیں جیسے کفر کے ساتھ کوئی نیکی نفع بخش نہیں، ان کے نزدیک ایمان محض دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، جب کہ اہل سنت کے نزدیک ایمان کے تین ارکان ہیں، دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اقرار کرنا، اور اعضاء و جوارح سے عمل کرنا۔ ۲؎: قدریہ جبریہ کے خلاف ہیں، جو اپنے کو مجبور محض کہتے ہیں اور یہ بڑی گمراہی کی بات ہے، اور قدریہ کی نسبت قدر کی طرف ہے، یعنی اللہ کی تقدیر پر جو اس نے قبل مخلوقات مقدر کی، غرض وہ مدعی ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے، کفر ہو یا معصیت و گناہ اور انہوں نے انکار کیا کہ یہ امور تقدیر الٰہی ہیں، یہ گمراہ فرقہ ہے اور غلطی پر ہے۔ قضا و قدر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہمارے اعمال و افعال اور ہمارے انجام کار کے بارے میں شروع ہی سے علم ہے، اسی نے ہماری قسمتوں کے فیصلے کر رکھے ہیں، اس لئے ہر بری اور بھلی تقدیر کی بات پر ہمارا ایمان ہے، ساتھ ہی ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بااختیار مخلوق پیدا کیا ہے، جسے عقل و شعور کی نعمت سے نوازا ہے اور اس کی ہدایت کے لئے شروع ہی سے انبیاء و رسل بھیجے ہیں اور آخر میں نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تاکہ انسان وحی کی روشنی میں زندگی گزار کر اللہ رب العزت کے یہاں سرخرو ہو۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There are two types of people among this this ummah who have no share of Islam: The Murji’ah and the Qadariyyah.”(Da’if)