قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ (بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1902.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ»، فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى، آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ "

صحیح مسلم:

کتاب: امور حکومت کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: شہید کے لیے جنت کا ثبوت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1902.   ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے اپنے والد سے، جب وہ دشمن کا سامنا کر رہے تھے، سنا: وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے (ہوتے) ہیں۔‘‘ یہ سن کر ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ابوموسیٰ! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو خود یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ یہ سن کر وہ شخص واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں تمہیں (الوداعی) سلام کہتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور تلوار لے کر بڑھا، اس سے شمشیر زنی کی یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا۔