قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ تَوْقِيرِهِ ﷺ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2358.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

صحیح مسلم:

کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: آپ ﷺ کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2358.   ابرا ہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انھوں نے عامر بن سعد سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارےمیں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرام کر دیا جائے۔‘‘