قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفيَّةِ غُسْلِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

286.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ»

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم اور اس کو کیسے دھویا جائے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

286.   عبداللہ بن نمیر نےہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروج بن زبیر) سے اور انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ (اپنی خالہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا، آپﷺ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے۔ آپﷺ کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپﷺ پر پیشاب کر دیا تو آپﷺ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے (رگڑ کر) دھویا نہیں۔