قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

586.   حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَتْ: فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَجُوزَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ دَخَلَتَا عَلَيَّ، فَزَعَمَتَا أَنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَقَالَ: «صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ» قَالَتْ: «فَمَا رَأَيْتُهُ، بَعْدُ فِي صَلَاةٍ إِلَّا يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

 

کتاب تمہید  (

باب: تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

586.   ابو وائل (شقیق بن سلمہ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا، انھوں نے کہا: مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انھوں نے کہا: قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کے لیے ہاں تک کہنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں، ان کا خیا ل تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپﷺ نے (کچھ دن گزرنے کے بعد) فرمایا: ’’ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ (قبروں میں) ان (کافروں، گناہ گاروں) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد میں نے آپﷺ کو دیکھا آپﷺ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔