قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الحَجِّ (بَابٌ: مِنْ أَيْنَ يَخْرُجُ مِنْ مَكَّةَ؟)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمة الباب:

1593 .   حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ مِنَ الثَّنِيَّةِ العُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ، وَخَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى

صحیح بخاری:

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

 

تمہید کتاب  (

باب: مکہ سے جاتے وقت کون سی راہ سے جائے

)
 

مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

1593.   حضرت ابن عمر ؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بلند گھاٹی کے مقام کداء سے جو بطحاء میں ہے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور نچلی گھاٹی کی طرف سے نکلے تھے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری ؓ ) کہتے ہیں: میرے استاد حضرت مسدد اپنے نام کی طرح ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں نے یحییٰ بن معین بن سعید کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں مسدد کے پاس ان کے گھر جاؤں اور وہاں ان سے حدیث بیان کروں تو وہ اس کے حقدار ہیں اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میری کتابیں میرے پاس رہیں یا مسدد کے پاس ہوں۔