قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِتْقِ (بَابُ بَيْعِ الوَلاَءِ وَهِبَتِهِ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

ترجمۃ الباب:

2536.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الوَلاَءَ لِمَنْ أَعْطَى الوَرِقَ»، فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَعَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا

صحیح بخاری:

کتاب: غلاموں کی آزادی کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: ولاء ( غلام لونڈی کا ترکہ ) بیچنا یا ہبہ کرنا

)
  باب تمہید

مترجم: شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

2536.   حضرت عائشہ  ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: میں نے حضرت بریرہ  ؓ کوخریدا تو اس کے مالکوں نے ولا اپنے پاس رکھنے کی شرط لگا دی۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کاذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تم اسے(خریدکر)آزاد کردو۔ ولاتو اسی کی ہے جو قیمت ادا کرے۔‘‘ چنانچہ میں نے اسے (خریدکر) آزاد کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے بلا کر اس کے شوہر کے متعلق اسے اختیار دیا تو حضرت بریرہ  ؓ نے کہا: اگر وہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دے تو میں اس کے پاس نہیں رہوں گی۔ اس نے خود کواختیار کیا، یعنی وہ اپنے شوہر سے جدا ہوگئی۔