قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّنَازُعِ وَالِاخْتِلاَفِ فِي الحَرْبِ، وَعُقُوبَةِ مَنْ عَصَى إِمَامَهُ)

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ} [الأنفال: 46] قَالَ قَتَادَةُ: الرِّيحُ: الحَرْبُ

2811. حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ مُعَاذًا وَأَبَا مُوسَى إِلَى اليَمَنِ قَالَ: «يَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ انفال میں فرمایا ” آپس میں پھوٹ نہ پیدا کرو کہ اس سے تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ۔ قتادہ نے کہا کہ ( آیت میں ) ریح سے مراد لڑائی سے ۔یعنی اختلاف کرنے سے جنگی طاقت تباہ ہو جائے گی اور دشمن تم پر غالب ہو جائیں گے۔

2811.

حضرت ابوموسیٰ اشعری  ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ اور ابو موسیٰ  ؓ کو یمن بھیجا تو (ان سے )فرمایا: ’’لوگوں پر آسانی کرنا، ان پر سختی نہ کرنا، انھیں خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں ایک دوسرے کی موافقت کرنا باہم اختلاف نہ کرنا۔‘‘