قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ (بَابُ الِاخْتِلَافِ عَلَى عَائِشَةَ فِي إِحْيَاءِ اللَّيْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1643.   أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَبْلُ فَقَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ

سنن نسائی:

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: رات جاگنے والی روایت میں حضرت عائشہؓ کے الفاظ میں اختلاف

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1643.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک رسی دوستونوں کے درمیان بندھی ہوئی دیکھی۔ آپ نے پوچھا: ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: (ام المومنین) حضرت زینب بنت جحش‬ ؓ ک‬ی ہے۔ وہ نماز پڑھتی ہیں۔ جب تھک جاتی ہیں تو اس کا سہارا لیتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے کھول دو۔ تم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک اس میں چستی باقی رہے۔ جب وہ سست پڑجائے تو نماز چھوڑ کر بیٹھ رہے۔“