قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ (بَابُ مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي الْقِيَامَ فَنَامَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1787.   أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ حَتَّى أَصْبَحَ كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَالَفَهُ سُفْيَانُ

سنن نسائی:

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جوآدمی سوتے وقت قیام الیل کی نیت رکھتا ہو مگر (گہری نیند) سویا رہا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1787.   حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے اور وہ اسے نبی ﷺ تک پہنچاتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جو آدمی بستر پر لیٹتے وقت نیت رکھتا ہو کہ رات کو (نماز تہجد کے لیے) اٹھے گا لیکن اسےگہری نیند آگئی اور وہ صبح تک سویا رہا تو اس کے لیے اس نماز کا ثواب لکھا جائے گا جس کی اس نے نیت کی اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی طرف سے اس پر نوازش ہوگی۔“ سفیان نے اس روایت میں حبیب بن ابی ثابت کی مخالفت کی ہے۔