قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ)

حکم : ضعیف الإسناد

ترجمۃ الباب:

1854.   أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَاهُنَا أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ قَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ أَنْتَ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت پرنوحہ کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1854.   حضرت عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ میت کو گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: آپ بتائیں ایک آدمی خراسان میں مر گیا اور اس کے گھر والوں نے اس پر یہاں نوحہ کیا، تو کیا اسے وہاں گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب ہوگا؟ (یعنی ایسے نہیں ہو سکتا) حضرت عمران نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا ہے، تو ہی غلط کہتا ہے۔