قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1856.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ قَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنْ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ

سنن نسائی:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: میت پرنوحہ کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

1856.   حضرت عمرہ‬ ؓ ن‬ے کہا کہ حضرت عائشہ‬ ؓ ک‬ے سامنے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر‬ ؓ ک‬ہتے ہیں: بلاشبہ میت کو زندہ لوگوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ‬ ؓ ن‬ے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمًن (ابن عمر ؓ) کو معاف فرمائے، انھوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے یا انھیں غلطی لگ گئی، حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک فوت شدہ یہودی عورت (کے گھر) کے پاس سے گزرے جس پر رویا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں جبکہ اسے (اپنے کفر اور گناہوں کی بنا پر) عذاب دیا جا رہا ہے۔“