قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابٌ كَمْ الشَّهْرُ وَذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ عَنْ عَائِشَةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2131.   أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (قمری اور اسلامی)مہینہ کتنے دن کا ہوتا ہے؟اور حضرت عائشہ کی اس حدیث میں زہری کے شاگردوں کا اختلاف

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2131.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہﷺ نے (ناراضی کی بنا پر) قسم کھا لی کہ اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا۔ آپ انتیس دن تک اسی حال میں رہے۔ (پھر میرے پاس تشریف لائے) میں نے (یاد دہانی کے طورپر) عرض کیا کہ آپ نے ایک ماہ کی قسم نہیں کھائی تھی میں نے تو انتیس دن شمار کیے ہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“