قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2279.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ قَالَ هَلُمَّ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنْ الْمُسَافِرِ قُلْتُ وَمَا وَضَعَ عَنْ الْمُسَافِرِ قَالَ الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس حدیث کے بیان میں معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک کا اختلاف

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2279.   بلحریش (بنو الحریش) قبیلے کے ایک شخص نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: میں مسافر تھا۔ میں نبیﷺ کے پاس آیا۔ میں اس وقت روزے سے تھا، اور آپ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم بھی آؤ۔“ میں نے عرض کیا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو معافی دی ہے؟“ میں نے کہا: کس چیز کی؟ فرمایا: ”روزے اور نصف نماز کی۔“