قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْإِفْطَارِ لِمَنْ حَضَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَصَامَ ثُمَّ سَافَرَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2314.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ فَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ

سنن نسائی:

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص رمضان المبارک میں گھر میں مو جود تھا اس نے روزہ رکھ لیاپھر سفر شروع کیا تو سفر میں وہ روزہ کھول سکتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2314.   حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے (فتح مکہ کا) سفر کیا تو روزے رکھتے گئے حتیٰ کہ عسفان مقام پر پہنچے تو برتن منگوایا اور دن ئھڑے پیا تاکہ لوگ بھی آپ کو دیکھ لیں (اور روزہ کھول لیں)۔ پھر آپ نے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور مکہ فتح کر لیا۔ یہ رمضان المبارک کی بات ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور کبھی نہیں بھی رکھا، لہٰذا جو شخص چاہے روزہ رکھے، جو چاہے نہ رکھے۔