قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ الْحِنْطَةِ)

حکم : ضعیف الإسناد

ترجمۃ الباب:

2515.   أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ قَالَ الْحَسَنُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَّا إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا أَعْطُوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ غَيْرِهِ

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: گندم دینا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2515.   حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بصرہ میں خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں کہا: اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو۔ لوگ (تعجب سے) ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا: یہاں جو لوگ مدینہ منورہ سے آئے ہوئے ہیں، وہ اپنے (بصری) بھائیوں کی طرف اٹھ کر جائیں اور انھیں تعلیم دیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقۃ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اور مذکر ومؤنث پر گندم کا نصف صاع اور کھجور یا جو کا ایک صاع مقرر فرمایا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال کی وسعت عطا فرمائی ہے تو تم بھی وسعت اختیار کرو، یعنی گندم ہو یا کوئی اور غلہ، سب میں سے پورا صاع ہی دو۔