قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابٌ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2546.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ عَنْ أَهْلِكَ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2546.   حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو عذرہ (قبیلے) کے ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا۔ یہ بات رسول اللہﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”تیرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خریدے گا؟“ تو حضرت نعیم بن عبداللہ عدوی ؓ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ یہ رقم لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے یہ رقم اس شخص کے سپرد کی، پھر فرمایا: ”سب سے پہلے اپنے آپ پر خرچ کر۔ اگر کچھ بچ جائے تو وہ تیرے گھر والوں کے لیے ہے۔ اگر گھر والوں (کی ضروریات) سے کچھ بچ جائے تو وہ تیرے قرابت داروں کے لیے ہے۔ اور اگر تیرے قرابت داروں سے بھی بچ جائے تو پھر تو اسے اپنے آگے اور اپنے دائیں بائیں صدقہ کر۔“