قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ حُبِسَ عَنِ الْحَجِّ وَلَمْ يَكُنِ اشْتَرَطَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2769.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنْ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِي وَيَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: جس شخص نے شرط نہیں لگائی ‘وہ حج سے روک دیا جائے تو کیا کرے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2769.   حضرت سالم بیان کرتے ہیں کہ (والد محترم) حضرت ابن عمر ؓ احرام حج میں شرط لگانے کا انکار فرماتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمھیں رسول اللہﷺ کی سنت کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی شخص حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے، پھر وہ ہر چیز سے (جو احرام میں ممنوع تھی) حلال ہو جائے حتیٰ کہ آئندہ سال حج کرے اور جانور بھی ذبح کرے۔ اور اگر جانور نہ پائے تو روزے رکھے۔