قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: تقریری

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ التَّكْبِيرُ فِي الْمَسِيرِ إِلَى عَرَفَةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3000.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُلَائِيُّ يَعْنِي أَبَا نُعَيْمٍ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي التَّلْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ كَانَ الْمُلَبِّي يُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: عرفات جاتے ہوئے تکبیریں کہنا بھی جائز ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3000.   حضرت محمد بن ابوبکر ثقفی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس ؓ سے کہا جبکہ ہم منیٰ سے عرفات جا رہے تھے: تم اس دن رسول اللہﷺ کے ساتھ کس طرح لبیک کہتے تھے؟ تو انھوں نے کہا: لبیک کہنے والا لبیک کہتا تھا، اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور تکبیریں کہنے والا تکبیریں کہتا تھا، اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔