قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ فَرْضُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3018.   أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَاسٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَيَكَادُ يُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: عرفات میں وقوف فرض ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3018.   حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عرفے سے واپس لوٹے تو میں آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔ آپ نے اپنی سواری کی مہار کھینچ رکھی تھی حتیٰ کہ اس کے کان کی (جڑ اور) ہڈی پالان کی اگلی لکڑی کو لگ رہی تھی۔ آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اطمینان اور وقار اختیار کرو، اونٹوں کو تیز بھگانے سے نیکی حاصل نہیں ہوتی۔“