قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابٌ أَمْرُكِ بِيَدِكِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3410.   أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِأَيُّوبَ هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ أَنَّهَا ثَلَاثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا إِلَّا مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ فَلَقِيتُ كَثِيرًا فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ نَسِيَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (خاوند بیوی سے کہے:) تیرا معاملہ تیرے اختیار میں ہے (تو کیا ہوگا؟)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3410.   حضرت حماد بن زید سے منقول ہے کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی نے [أَمْرِكُ بِيَدِكِ] ”تیرا معاملہ تیرے اختیار میں ہے“ کہنے کی صورت میں اسے تین طلاق کہا ہو؟ سوائے حضرت حسن بصری کے؟ انہوں نے کہا: نہیں‘ پھر کہنے لگے: یا اللہ! معاف فرمانا۔ (ہاں) مگر وہ حدیث جو مجھے قتادہ نے کثیر مولی ابن سمرہ عن ابی ہریرہ کی سند سے بیان کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”(یہ الفاظ کہنا) تین طلاقیں ہیں۔“ (حضرت حماد نے کہا:) میں کثیر کو ملا اور ان سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس حدیث سے لاعلمی ظاہر کی‘ پھر میں حضرت قتادہ کے پاس گیا اور ان سے پوری بات ذکر کی تو انہوں نے کہا: کثیر بھول گئے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی ؓ ) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔