قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ النُّحْلِ (بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي النُّحْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3676.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نُحْلًا فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ أَشْهِدْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا نَحَلْتَ ابْنِي فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْهَدَ لَهُ

سنن نسائی:

کتاب: عطیہ سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: عطیہ کرنے کے بارے میں حضرت نعمان بن بشیرؓ کی روایت کے ناقلین کے لفظی اختلاف کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3676.   حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے کہ میرے والد نے مجھے ایک (غلام کا) عطیہ دیا۔ میری والدہ ان سے کہنے لگیں: میرے بیٹے کے عطیے پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنالیں۔ میرے والد رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور پوری بات آپ سے ذکر کی۔ نبی اکرم ﷺ نے اس پر گواہ بننا پسند نہیں فرمایا۔