قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ المُحَارَبَة (بَابُ ذِكْرِ الْكَبَائِرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4009.   أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ، وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ» فَسَأَلُوهُ عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ»

سنن نسائی:

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان 

  (

باب: کبیرہ گناہوں کا ذکر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4009.   حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں حاضر ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو، نماز پابندی کے ساتھ پڑھتا رہا ہو، زکوٰۃ (پوری کی پوری) دیتا رہا ہو اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہا ہو، اس کے لیے جنت ہے۔“ لوگوں نے آپ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا (کہ وہ کون کون سے ہیں؟) تو آپ نے (بطور مثال) ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، مسلمان شخص کو قتل کرنا اور لڑائی کے دن بھاگ جانا۔“