قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ (بَابُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4243.   أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: مَا عِنْدِي إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ، قَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا؟» قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا»

سنن نسائی:

کتاب: فرع اور عتیرہ سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: مردار کا چمڑا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4243.   حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نبیﷺ نے غزوہ تبوک (کے سفر) میں ایک عورت کے پاس سے پانی منگوایا۔ وہ کہنے لگی: میرے پاس پانی تو ہے مگر مردار کے چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزے میں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اسے دباغت نہیں دی تھی؟ ”اس نے کہا: جی! دباغت تو دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تو دباغت (رنگنے) سے چمڑا پاک ہو جاتا ہے۔“