قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ (بَابُ الضَّبِّ)

حکم : صحيح الإسناد

ترجمۃ الباب:

4319.   أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ فَقَالَ أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنْ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَكَ الضِّبَابَ تَقَذُّرًا لَهُنَّ فَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ

سنن نسائی:

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

 

  (

باب: سانڈے کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4319.   حضرت ابن عباسؓ سے سانڈے (کا گوشت) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ام حفید ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی، پنیر اور سانڈے بھیجے۔ آپ نے گھی اور پنیر تو کھا لیے لیکن سانڈے ناپسند کرتے ہوئے چھوڑ دیے۔ اگر یہ حرام ہوتے تو نہ آپ کے دستر خوان پر کھائے جاتے اور نہ آپ ان کے کھانے کی اجازت دیتے۔