قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ (بَابٌ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5035.   أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ مَهْ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ

سنن نسائی:

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: اللہ عزوجل کےنزدیک سب سےپیارا دین(طریقہ عبادت)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5035.   حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ انکے پاس تشریف لائے توان (حضرت عائشہ) پاس ایک عورت بیٹھی تھی۔آپ نےفرمایا: ”یہ کو ن ہے؟“ انھوں نے کہا: فلاں عورت ہے۔یہ (رات کو) بالکل نہیں سوتی اور اس کی (نفل) نماز کا ذکر کرنے لگیں۔ آپ نے فرمایا: ”بس کرو۔ اتنا کام کیا کر و جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔ دین کے کاموں میں سے اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جس عمل کرنے والا ہمیشگی کرسکے۔“