قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ (بَابُ وَصْلِ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5093.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ كُبَبِ النِّسَاءِ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ مَا بَالُ الْمُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَادَتْ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُورٌ تَزِيدُ فِيهِ

سنن نسائی:

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جعلی بال ملانا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5093.   حضرت سعید مقبری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے دیکھا، حضرت معاویہ بن ابوسفیان ؓ منبر (مدینہ) پر بیٹھے تھے اور ان کےہاتھ میں جعلی بالوں کا ایک گچھا تھا۔ انہوں نے فرمایا: کیا بات ہے کہ مسلمان عورتیں یہ کام کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جوعورت اپنے سر کے بالوں میں اور بالوں کا اضافہ کرے تو یہ جعلی سازی ہے جس سے وہ اضافہ کررہی ہے۔