قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

532.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّهُ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

532.   حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز مؤخر کی حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزرگیا۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا۔ اے اللہ کے رسول! نماز کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سوگئے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو پانی کے قطرے آپ کے سر سے گر رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: ”یہ ہے عشاء کی نماز کا اصل وقت، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔“