قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ آخِرِ وَقْتِ الْعِشَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

537.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى

سنن نسائی:

کتاب: اوقات نماز سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عشاء کی نماز کا آخری وقت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

537.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے، انھوں نے فرمایا: ہم ایک رات بہت دیر تک عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے۔ جب تہائی یا اس سے کچھ زیادہ رات گزرگئی تو آپ تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا: ”تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہو جس کا انتظار تمھارے علاوہ کسی اور دین والے نہیں کررہے ہیں اور اگر میری امت پر اس وقت نماز پڑھنا بوجھل نہ ہوتا تو میں یقیناً انھیں اس قت نماز پڑھاتا۔ “ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، پھر آپ نے نماز پڑھائی۔