قسم الحديث (القائل): مقطوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَشْرِبَةِ الْمُبَاحَةِ)

حکم : صحیح الإسناد مقطوع

ترجمۃ الباب:

5757.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ لِأَهْلِ الْكُوفَةِ فِي النَّبِيذِ فِتْنَةٌ يَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ وَيَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ قَالَ وَكَانَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ عُرْسٌ كَانَ طَلْحَةُ وَزُبَيْدٌ يَسْقِيَانِ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ فَقِيلَ لِطَلْحَةَ أَلَا تَسْقِيهِمُ النَّبِيذَ قَالَ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْكَرَ مُسْلِمٍ فِي سَبَبِي

سنن نسائی:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مباح اور جائز شروبات کابیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5757.   حضرت ابن شبرمہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت طلحہٰ ؓ نے نبیذ کے بارے میں کوفے والوں سے فرمایا کہ یہ ایسا فتنہ ہے کہ جس میں تمھارے چھوٹے پرورش پاتے ہیں اور تمھارے بڑے اسے پیتے پیتے کھوست اور بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ اور جب کوئی شادی ہوتی تو حضرات طلحہٰ وزبید ؓ لوگوں کو دودھ اور شہد پلایا کرتے تھے۔ حضرت طلحہ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کو نبیذ کیوں نہیں پلاتے؟ انھوں نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی مسلمان نشے میں آئے۔