قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَذَانِ (بَابُ الْإِقَامَةِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

660.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَكِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ

سنن نسائی:

کتاب: اذان سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: دونمازیں جمع کرنے والے کےلیے ایک اقامت کافی ہو سکتی ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

660.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں۔ آپ نے ان میں سے ہر نماز الگ اقامت سے پڑھی اور ان میں کسی نماز سے بھی آگے یا پیچھے نفل نہیں پڑھے۔