قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ (بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْحَصِيرِ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

737.   أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهَا فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهَا فَتَتَّخِذَهُ مُصَلًّى فَأَتَاهَا فَعَمِدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَنَضَحَتْهُ بِمَاءٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّوْا مَعَهُ

سنن نسائی:

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: چٹائی پر نماز پڑھنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

737.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ ہمارے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھیں تاکہ ہم (تبرکاً) اس جگہ کو نماز کے لیے مقرر کرلیں۔ آپ تشریف لائے تو انھوں (ام سلیم ؓ) نے ایک چٹائی اٹھائی اور اسے پانی سے گیلا کیا، پھر آپ نے نماز پڑھی اور سب (گھر والوں) نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔