قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْجَنَائِزِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1046.   حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ مَرَّةً بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا أَيْضًا

جامع ترمذی:

كتاب: جنازے کے احکام ومسائل 

  (

باب: جب میت قبر میں رکھ دی جائے تو کونسی دعا پڑھی جائے؟​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1046.   عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ جب میت قبر میں داخل کردی جاتی (اورکبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے: جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی: (بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ) پڑھتے اورکبھی (بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ’’اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتاہوں) پڑھتے۔‘‘ امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔۲۔ یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے اوراسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے۔۳۔ نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاًمروی ہے۔