قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: منقطع قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ مَا جَاءَ فِي حُبِّ الْوَلَدِ​)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

1910.   حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَال سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي سُوَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ زَعَمَتْ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ ابْنَيْ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ وَتُجَبِّنُونَ وَتُجَهِّلُونَ وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَمَاعًا مِنْ خَوْلَةَ

جامع ترمذی:

كتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں 

  (

باب: اولاد کی محبت کابیان​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

1910.   خولہ بنت حکیم‬ ؓ ک‬ہتی ہیں: ایک دن رسول اللہﷺگود میں اپنی بیٹی (فاطمہ) کے دولڑکوں (حسن، حسین) میں سے کسی کولیے ہوئے باہرنکلے اورآپ (اس لڑکے کی طرف متوجہ ہوکر) فرمارہے تھے: ’’تم لوگ بخیل بنا دیتے ہو، تم لوگ بزدل بنا دیتے ہو، اورتم لوگ جاہل بنا دیتے ہو، یقینا تم لوگ اللہ کے عطا کئے ہوئے پھولوں میں سے ہو‘‘۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ ابراہیم بن میسرہ سے مروی ابن عیینہ کی حدیث کو ہم صرف انہی کی روایت سے جانتے ہیں۔۲۔ ہم نہیں جانتے ہیں کہ عمربن عبدالعزیزکا سماع خولہ سے ثابت ہے۔۳۔ اس باب میں ابن عمراوراشعث بن قیس ؓم سے بھی احادیث آئی ہیں۔