قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ مِنْهُ​)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2206.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنْ الْحَجَّاجِ فَقَالَ مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

جامع ترمذی:

كتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

 

کتاب تمہید  (

باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی​

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2206.   زبیربن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک ؓ کے گھر گئے اوران سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا: ’’آنے والا ہرسال (گذرے ہوئے سال سے) برا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملو‘‘، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔