قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابُ فَضلِ كُلِّي قَرِيبِِ هَيِّنِِ سَهلِِ)

حکم : ضعيف إلا جملة المصافحة فهي ثابتة

ترجمۃ الباب:

2490.   حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَيْدٍ التَّغْلَبِيِّ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَصَافَحَهُ لَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُهُ وَلَمْ يُرَ مُقَدِّمًا رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

جامع ترمذی:

كتاب: احوال قیامت ،رقت قلب اورورع کے بیان میں

 

کتاب تمہید  (

باب: ہر قریب رہنے والے‘آسانی کرنے والے اور باوقار سنجیدہ کی فضیلت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

2490.   انس ؓ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپﷺ سے مصافحہ کرتا تو آپﷺ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خوداپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپﷺ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔