قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

جامع الترمذي: أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ اِقتَدُو بِالَّذِینَ مِن بَعدِی اَبِی بَکرِِ وَعُمَرُ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3668.   حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَا يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ

جامع ترمذی:

كتاب: فضائل و مناقب کے بیان میں 

  (

باب: میرے بعد ابو بکر وعمرؓ کی پیروی کرو

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی ومجلس علمی(دار الدعوۃ، نئی دہلی)

3668.   انس ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر وعمر بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر وعمر ؓ کے یہ دونوں آپﷺ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپﷺ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث غریب ہے۔۲۔ اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں۔۳۔ بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔